سرینگر،21؍جولائی(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)علیحدگی پسندوں کی طرف سے بند اور مقامی اقوام متحدہ کے دفتر تک ریلی نکالنے کا اعلان کرنے کے بعد حکام نے آج قانون اور نظام کو برقرار رکھنے کے لئے سری نگر کے کچھ حصوں میں پابندی لگا دیں۔حکام نے بتایا کہ سرینگر کے آٹھ تھانہ علاقوں میں سخت پابندیاں عائدکی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ کھانیار، نوہٹٹا، ریناواری، ایم آر گنج، سپھاکدل، میسوما، کرال خود اور رام منشی سنگھ تھانہ علاقوں میں پابندیاں لگائی گئی ہیں۔حکام نے کہا کہ علیحدگی پسندوں کے سونہ وار واقع بھارت اور پاکستان میں اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ کے دفتر تک ریلی نکالنے اور بند کے اعلان کے بعد قانون اور نظام کو برقرار رکھنے کے لیے احتیاطی طور پر لوگوں کی نقل و حرکت پرپابندیاں لگائی گئی ہیں۔حریت کانفرنس کے دونوں مختلف گروپوں کے صدر سید علی شاہ گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق اور جے کے ایل ایف کے سربراہ یاسین ملک سمیت علیحدگی پسندوں کے بند کا اعلان کرنے کے بعد وادی میں عام زندگی متاثرہوئی ہے۔حکام نے بتایا کہ زیادہ تر دکانیں، پٹرول پمپ اور دیگر کاروباری ادارے بند رہے۔گاڑی بھی سڑک سے ندارد رہے۔انہوں نے بتایا کہ ذاتی تعلیمی ادارے بھی بند رہے۔